دنیا کا اصول ہے کہ انسان آتا ہے روتے ہوئے اور جاتا ہے تو کرب و اضطراب اور حزن و پریشانی میں مبتلا، لیکن دنیاوی زندگی میں اس رونے دھونے کو اپنا مقصد بنا لینا سب سے بڑی بے وقوفی ہے؛ کیونکہ اس دنیا کے مشاغل میں جہاں تفکرات، مشکالات، اور حادثات کا دور دورہ ہے، وہاں خوشی، فرحت و مسرت، محبت و قرابتیں بھی ہیں۔ اسی لیے تو کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ:
"جہاں بجتی ہیں شاہنائیاں وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں"
اور آج کا یہ انسان حقائق زندگی سے گریزاں، جذبات اور تشویش کا شکار ہے، جو شکوک، وہم، وسوسہ، بے اعتمادی اور اسی قسم کی ذہنی کیفیت میں مبتلا ہے جسے مسرت کی جھلک بھی میسر نہیں ہوئی۔
قارئین کرام! اس مادیت کے دور میں انسان کا حزن و ملال اسکے ذہنی توازن کو بگاڑ دیتا ہے، جس کے سبب اس میں چڑچڑاپن، غیر اعتدلانہ جذبات، معمولی سی بات پر اکڑ جانا اور اس جیسی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں، جو کہ انسانی زندگی کو شکست کے مراحل تک پہنچا دیتا ہے اور اسی ذہن کو نفس کا نام دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذہن بگڑنے سے انسان نفسیاتی امراض کا شکار ہوجاتا ہے۔
اتنی تحریر پڑھنے کے بعد آپکے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوگا کہ اس مادیت پرست دور میں جہاں شوروغل کا بازار گرم ہے، وہاں مسرت نام کی چیز کہاں سے آئی گی؟
تو قارئین اکرام پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں، اس لیے کہ انسان جس چیز کے بارے میں بھی سوچتا ہے وہ چیز اس کے ذہن میں گردش کرنا شروع کردیتی ہے جسکی وجہ سے وہ سوچ سوچ کر ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ تو اس لیے ہر اچھی چیز سوچیں اور کر گزریں، سوچ سوچ کر اپنے آپ کو نہ بگاڑیں؛ مزید وضاحت کے لیے ایک مثال ملاحظہ فرمائیں:
ایک دیہاتی بڑھیا سے پوچھا گیا جو صبح سے رات تک کام کرتی تھی کہ آپ اتنا زیادہ کام کرتی ہیں تو کیا تھکتی نہیں؟ تو وہ کہنی لگیں کہ میں نے اس بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں کہ میں تھکتی ہوں، اس لیے مجھے تھکان محسوس نہیں ہوتی۔
تو اسی لیے اپنی زندگی کو خوشی اور مسرت و فرحت والی بنائیں، ہنستا مسکراتا چہرہ ہمیشہ اچھا لگتا ہے، لہذا:
مسرت کو بنا لو زندگی کا اصول
کہ سب پھینک دیتے ہیں مرجھائے پھول