الٰہی! عاشقوں میں شامل اپنا نام ہو جائے
تری جانب سے تیرے در پہ کچھ اکرام ہو جائے
کئی برسوں سے جاتے ہیں ترے در قافلے کتنے
خدایا! مثل اُن کے ہم پہ بھی انعام ہو جائے
مقدر کر دے عرفات و منیٰ میں گریہ و زاری
کہیں ایسا نہ ہو کہ زندگی کی شام ہو جائے!
ترے خُدام حاضر ہوں، ترے دربار تک جائیں
ترے گردوں تلے مزدلفہ میں آرام ہو جائے!
طوافِ کعبۂ اطہر کی مُدت سے تمنا ہے
کرم فرما دے کہ یہ آرزو اتمام ہو جائے!
نبی کی سجدہ گاہوں پر وہ سجدوں کی عجب لذت
عجب کیا ہے کہ ان سجدوں میں ہی انجام ہو جائے
عجب نورانیت روحانیت آقاؐ کے روضے کی
عطا کر دے زیارت کہ یہ حسرت تام ہو جائے
خدایا منتظر ہوں تیری رحمت کے خزینے کا
کہ کب موصول ؔہانی کو ترا پیغام ہو جائے