ابد تو ابد تُو ازل کا حسیں ہے
چمکدار رخسار روشن جبیں ہے
تُو احمد مدثر مزمل تُو یاسین
تری شان قرآں تُو صادق امیں ہے
فرنگی بھلا سمجھے کیا وہ اشارہ
کہ آقا پہ قربان رُوئے زمیں ہے
پیام آخری لے کے رب کا تُو آیا
تو سید تو ہی خاتم المرسلیں ہے
وہ نامِ گرامی جو آدم کو بھایا
ترے نام کی لوح عرش بریں ہے
حبیبِ خدا(ﷺ) تیری کیا شان ہوگی
ابوبکر ساجب ترا جانشیں ہے
محمد (ﷺ)کے حسان کے کیا ہی کہنے
کلام مساؔفر تو کچھ بھی نہیں ہے