مضمون 2026/03/11 مشاہدات

قسطنطنیہ سے استنبول تک

استنبول کا نام سن کر ہر مسلمان کے دل میں اس کو دیکھنے کی تمنا یقیناً ہوتی ہوگی، کیوں کہ یہ کوئی معمولی شہر نہیں؛ اس کے متعلق آپ ﷺ کی حدیث مشہور ہے:

ترجمہ: "تم ضرور قسطنطنیہ فتح کر لو گے، پس بہتر امیر اس کا امیر ہوگا اور بہتر لشکر وہ لشکر ہوگا"۔ (1)

آنحضرت ﷺ نے اس کی فتح کی بشارت آٹھ سو سال پہلے دے دی تھی۔ اس بشارت کو حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں نے یہاں گیارہ بار لشکر کشی کی۔ سب سے پہلی بار 32ھ میں حضرت عثمان غنیؓ کے حکم سے حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیانؓ نے کی تھی، اور دسویں بار فاتحِ قسطنطنیہ کے والد سلطان مراد ثانی نے کی۔

یہ قدیم دور میں سلطنتِ روم کا شہر تھا، جب اسے بیزنطیہ (Byzantia) کہا جاتا تھا۔ جب تیسری صدی عیسوی میں قیصر قسطنطین نے اسے اپنا پایہ تخت بنایا، تو اس کا نام اسی سے منسوب ہو کر قسطنطنیہ ہو گیا۔ جب یہ شہر مسلمانوں کے قبضے میں آیا، تو بعض لوگ اسے "استانبول" کہنے لگے؛ جسے سلطان محمد خان فاتح نے بدل کر "اسلام بول" کر دیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے آخری دور میں اسے "الآستانہ"، "دار السعادة" اور "باب عالی" کے نام بھی دیے گئے۔ (3)

شہر قسطنطنیہ کے مختصر تعارف کے بعد فتحِ قسطنطنیہ کی طرف آتے ہیں۔ 1451ء میں 23 سالہ سلطان محمد خان ثانی اپنے باپ سلطان مراد ثانی کی وفات کے بعد آلِ عثمان کے ساتویں حکمران کی حیثیت سے عثمانی تخت پر جلوہ افروز ہوا۔ محمد خان نہایت ذہین، بہادر، ہوشیار، دور اندیش اور جنگجو شہزادہ تھا۔ (3)

سلطان محمد خان اپنے باپ کے ادھورے کام کو پورا کرنا چاہتا تھا، اس نے قسطنطنیہ پر دھاوا بولنے کا پکا ارادہ کر لیا۔ اسی مقصد کے لیے اس نے آبنائے باسفورس کے مغربی کنارے پر چار ماہ کی مختصر مدت میں ایک چھوٹا مگر نہایت مضبوط قلعہ بھی تعمیر کروا لیا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے اور اپنے پردادا بایزید یلدرم کے تعمیر کردہ قلعوں پر توپیں نصب کروا دیں۔

23 مارچ 1452ء کو اس نے پچاس ہزار سپاہیوں کے ساتھ قسطنطنیہ کی طرف پیش قدمی شروع کی، اور 6 اپریل کو قیصر کے پایہ تخت کے مغربی سمت میں نمودار ہوا اور اپنا خیمہ شہر کے دروازے سینٹ رومانوس کے سامنے نصب کرایا۔ (5)

سلطان نے حملے سے پہلے ملک کے علمائے کرام اور مشائخ عظام کو اس جہاد میں شرکت کی درخواست کی تھی۔ محاصرے کے آغاز کو 9 دن گزر گئے، مگر قسطنطنیہ کے شہریوں اور فوج کی سخت مزاحمت کے سبب تمام تدبیریں رائیگاں چلی گئیں۔

20 اپریل کو مغربی جہاز خوراک و رسد اور گولہ بارود سمیت بھاری کمک لیے بحیرۂ مرمرہ میں داخل ہوئے اور سیدھے گولڈن ہارن کا رخ کیا۔ عثمانی جہازوں نے ان کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کی مگر ناکام رہے۔ سلطان نے محصورین کو تازہ کمک پہنچنے اور اپنی بحری ناکامی کا بذاتِ خود مشاہدہ کیا؛ منصوبہ کی ناکامی دیکھ کر وہ بے چین ہو گیا اور دوبارہ غور و فکر کرنے لگا۔

سوچتے سوچتے اسے ایک عجیب و غریب تدبیر سوجھی؛ اس نے فیصلہ کیا کہ آبنائے باسفورس پر تعینات اپنا بحری بیڑہ خشکی پر چلایا جائے۔ خشکی کا علاقہ دس میل طویل تھا، اس پر لکڑی کے بڑے بڑے تختے بچھا دیے گئے اور انہیں چربی اور تیل کے ذریعے خوب چکنا کر لیا گیا۔

14 جمادی الاولی (21 مئی) کی رات ہزاروں سپاہیوں نے 80 چھوٹے جہازوں کو ان تختوں پر دھکیلنا شروع کر دیا، رات بھر جہازوں کو گولڈن ہارن کے اس پار لے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ مغرب کی جانب سے عثمانی توپ خانہ بھی گرجتا رہا، جس سے رومیوں کی توجہ اسی طرف مبذول رہی۔

جب اندھیرا چھٹا اور اجالا ہوا، تو اہل شہر نے عثمانیوں کو فصیل کے انتہائی قریب پایا۔ قیصر نے آخری کوشش بھی کی اور کمک منگوائی مگر ناکام رہا؛ سلطان نے دونوں سمتوں سے اس پر گولے برسانا شروع کر دیے۔ قیصر نے آخری پیشکش کی کہ وہ ایک باج گزار حاکم کے طور پر قسطنطنیہ اسی کے پاس رہنے دے اور منہ مانگی قیمت لے لے، مگر سلطان فتح کا مکمل عزم کر چکا تھا۔

سلطان نے اسے امان کے بدلے ہتھیار ڈالنے پر جنوبی یونان کی پیشکش کی لیکن اس نے ٹھکرا دی۔ آخر 20 جمادی الاولی بمطابق 29 مئی 1453ء کی نماز فجر ادا کر کے سلطان نے دس ہزار منتخب سپاہی لے کر فیصلہ کن حملہ کر دیا، اور غالباً سلطان نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم ان شاء اللہ ظہر کی نماز آیا صوفیا میں ادا کریں گے۔

سلطان خیمے کے ساتھ مسلسل دعاؤں میں لگا ہوا تھا اور علماء سے بھی دعائیں کرا رہا تھا۔ شیخ شمس الدین (4) بھی سربسجود ہو کر مسلسل آہ و زاری اور دعاؤں میں لگے ہوئے تھے۔ مجاہدین تھکن سے چور ہونے کے باوجود میدانِ کارزار میں ڈٹے ہوئے تھے اور جذبۂ ایمانی اور شہادت کے ولولے کا ثبوت دے رہے تھے۔

اتنے میں شیخ شمس الدین یکایک کھڑے ہوئے اور نعرہ تکبیر بلند کر کے کہا: "الحمد لله! شہر فتح ہو گیا"۔ امراء نے پلٹ کر دیکھا تو عثمانی توپوں نے فصیل کا ایک حصہ گرا دیا تھا۔ سلطان نے سپاہیوں کو اس میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ عثمانی فصیل پر لڑ بھڑ کر ترک سرخ ہلالی پرچم نصب کرنے کی کشمکش میں تھے، پے در پے اٹھارہ مجاہدین ایک دوسرے کو پرچم دیتے دیتے جامِ شہادت نوش کر گئے؛ بالآخر کئی برسوں کے اس مرکزِ الحاد میں اسلام کا جھنڈا لہرا دیا گیا اور سرزمینِ کفر "اللہ اکبر" کی زمزمہ بار صدا سے گونج اٹھی۔

سلطان فاتحانہ شان سے شہر میں داخل ہوا اور قیصر قسطنطین دوازدہم (12) کی تدفین اس کے مذہب کے مطابق کرنے کا حکم دیا۔ یوں قسطنطین سے شروع ہوئی گیارہ سو سالہ داستان سلطان محمد خان ثانی فاتح کے ہاتھوں اختتام پذیر ہوئی اور آپ ﷺ کی پیشین گوئی پوری ہوئی: "إِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ" (صحیح البخاری، ح: 3120) جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا۔

مگر یہ اتنا آسان نہ تھا، اس شاندار فتح کے لیے جن شہیدوں نے اپنا خون دیا اس کا احاطہ قلم کی سیاہی نہیں کر سکتی۔ نجانے کتنے فرزندانِ اسلام اس کی خاطر قربان ہوئے اور نجانے کتنے ماؤں کے لال نے جان کی پرواہ کیے بغیر شہادت کا رتبہ حاصل کیا، کہ:

خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا (اقبال)

علامہ اقبال کے یہ اشعار اس شہر کے بہترین عکاّس ہیں:

خطّۂ قُسطنطنیّہ یعنی قیصر کا دیار

مہدیِ اُمّت کی سَطوت کا نشانِ پائدار

صورتِ خاکِ حرم یہ سر زمیں بھی پاک ہے

آستانِ مسند آرائے شہِ لولاکؐ ہے

نگہتِ گُل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا

تُربتِ ایّوب انصاریؓ سے آتی ہے صدا

اے مسلماں! ملّتِ اسلام کا دل ہے یہ شہر

سینکڑوں صدیوں کی کُشت و خُوں کا حاصل ہے یہ شہر

تقریباً چھ سو سال یہ شہر خلافتِ عثمانیہ کا دار الحکومت رہا، پھر جمہوریہ ترکیہ کے قیام کے بعد اس کے بجائے انقرہ (انگورہ) کو دار الحکومت بنا لیا گیا؛ یوں استنبول کی تقریباً دو ہزار سال کی سیاسی مرکز کی حیثیت ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ استنبول کی ماضی کی شان و شوکت اور تقدیس ہمیں دوبارہ دیکھنا نصیب فرمائے۔ (آمین)


حاشیہ (حوالہ جات):

(1) مسند امام احمد، ص: 335، ج: 20

(2) جہاں دیدہ، ص: 322

(3) تاریخ امت مسلمہ، ج: 2، ص: 744

(4) یہ اس وقت کے جید عالم دین اور صوفی بزرگ تھے، انہوں نے ہی حضرت ایوب انصاریؓ کی قبر کشف کے ذریعے دریافت کی تھی، سلطان ان کی بہت عزت کرتا تھا۔

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!