اے نوجواں مسلماں، پہچان اپنی بنیاد
خالق ہے تیرا رحماں، پہچان اپنی بنیاد
دنیا کے فانی دریا میں غوطہ زن نہ ہونا
خالی رہے گا داماں، پہچان اپنی بنیاد
سرکار کے صحابہ سے تیری نسبتیں ہیں
اور رہنما ہے قرآں، پہچان اپنی بنیاد
تعداد سے نہیں کچھ، ایمان دیکھ اپنا
ہو جانا سب کا یکجاں، پہچان اپنی بنیاد
بابِ نبی ہمیشہ اب بند ہی رہے گا
دنیا کو کر فروزاں، پہچان اپنی بنیاد
گردن پہ تیغ کا سایہ ہے مگر نہ رکنا
مضبوط یوں تھا ایقاں، پہچان اپنی بنیاد
رب کے مجاہدوں کو حاصل سرور کتنا
یہ ہی ہے راہِ تاباں، پہچان اپنی بنیاد